Thursday, 5 May 2011

نمونہ 

فکر و غم 
آج ہمیں فکر وغم  کی ضرورت ہے


دنیا میں کیا ہو رہا ہے 
کیسے کیسےعذاب الہی  نازل ہو رہے ہیں 
کہیں گرمی کہیں بارشیں کہیں سیلاب کہیں قتل و غارت لیکن ہمیں پیسہ کمانے سے فرصت نہیں مل رہی چاہے کسی کا حق مارو یا کسی کی بددعا لو کوئی فرق نہیں پڑتا 
پیسہ آنے سے مطلب 
عذاب قبر سے ہمیں کیا لینا دینا 
ہمیں تو فیکٹری کھڑی کرنی ہے شہر میں نام پیدا کرنا ہے مرنے کے بعد کیا ہوگا کس نے دیکھا ہے 
ہمارے پاسس تو عقل ہے ہم جانتے ہیں الله کو کس نے دیکھا ہے ، عقل سے پہچانا ہے 
ایک پیسے تو ہے جو دنیا میں رہ جاتا ہے جان تو آنی جانی چیز ہے 


      

No comments: